نسخہ جاتی آلات
Share this page

صحت کے پیشہ ور

ی بی سی فاؤنڈیشن پی بی سی سے متاثرہ افراد کے لیے معاونت اور معلومات فراہم کرنے کے لئے خصوصی طور پر وقف برطانیہ میں صرف تنظیم ہے.

نسخہ جاتی آلات

نسخہ جاتی آلات

ابھی تک پی بی سی کا کوئی علاج نہیں ہے۔ صرف لائسنس علاج یہ ہے کہ ایک دوا میں 10-15 ملی گرام / کلوگرام / روز بائل ایسڈ، اُرسوڈی آکسی کولک ایسڈ (اُرسو فالک) کے ساتھ۔ منظم تجزیہ کے نتائج جو پی بی سی میں اُرسوڈی آکسی کولک ایسڈ پر کنٹرول ٹیسٹ کئے گئے جن سے معلوم ہوا کہ یہ کچھ کلینکل طریقے میں کچھ سست ہے جبکہ علامات میں کچھ مفید ہے۔ اُرسوڈی آکسی کولک ایسڈ کا علاض حیران کن طورپر برے اثرات سے پاک ہے۔ کوئی اعداد شمار نہیں کہ مریض کو معلوم ہو کہ اسے پی بی سی ہے لیکن کس پر علامات ظاہر نہیں ہوئیں، اس کا علاج اُرسوڈی آکسی کولک ایسڈ سے کرنا چاہئیے اور اگر ہو سکے چاہے کتنا لمبا ہو۔ حالیہ علاج کی لاگت اس علاے میں 1500$ فی سال ہے۔

مرض کی قسم مدافعتی ہے، اس لئے پچھلے پچیس سالوں میں کلینکل کوششوں میں بہت سے آمینوسپریسیوو ریگی مینس کی پہچان ہوئی۔ یا تو ان کی اکثریت کوئی فائدہ نہیں دیکھاتی یا پھر ناقابل قبول برے اثرات دیکھاتی ہے۔ مثال کے طور پر، بہت سی کنٹرول کوششوں سے دوسرے بائل ایسڈ، کورٹی کوسٹرائیڈ اور دوسرے علاج عام طور پر اٗرسوڈی آکسی کولک ایسڈ کے ساتھ چلتے ہیں۔ کیوں کہ اس بیماری کا سست اور غیر یقینی اور عام طور پر سست کلینکل طریقہ کار ہونا ہے جس کی وجہ سے اس کے علاج اور کوششوں میں مشکل ہے مداخلت کی جائے اور مریض کو علاج کے مشکل ہونے کے بارے میں بتائی۔ کچھ مریض بیس سالوں تک بنا علامات جانے رہتے ہیں جبکہ دوسرے جگر کے مرض کی وجہ سے ایک یا دوسالوں میں بنا علامات سے پیچیدگی (پورٹل ہائپر ٹینشن)کی طرف چلاے جاتے، یہاں تک کہ ان کی موت ہوجاتی ہے۔ مزید، تھکان اور سستی کی شدید علامات اور کبھی کبھار خارش یہ تمام تناسب سے ہسٹولوجیکل یا بائیو میڈیکل غیر معمولی حالت کے تحت لے جاتی ہے۔ یہ علامات ضروری نہیں ہیں کہ اُرسوڈی آکسی کولک ایسڈ پر نتائج دیں یا دوسرے علاج پر جو کہ ابھی زیر تحقیق ہیں۔ جو کچھ بھی ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ ہو اُرسو ڈی آکسی کولک ایسڈ نے بہت سے مریضوں کی ایل ایف ٹی میں بہتری لایا ہے۔

دوسری طرف جگر کی بیماریوں میں، اب لوگوں کے لئے جو پی بی سی کے آخری مرحلے پر پہنچ گئے ہوں تو پیوندکاری کا انتخاب بہت زیادہ قابل قبول ہے۔ اب دوسری بڑی بیماریوں کے گروپ کے مقابلے میں جگر کی پیوند کاری کے نتائج بہتر ہیں۔ پچیس فیصد مریض جنہوں نے پی بی سی کی وجہ سے جگر کی پیوندکاری کروائی انہیں اس کے کم از کم ایک سال تک، آٹھ فیصد کو پانچ سال، اچھی معیار زندگی کے ساتھ زندہ رہنا چاہئیے۔ پیوند کاری کا دورانیہ مشکل ہے۔ جیسے کہ دوسری جگر کے امراض، یہ فیصلہ کہ پیوند کاری کی پیش کریں یہ نہیں اور کب پیوندکاری ہونی ہے یہ ملاپ ہے تشخیص کے تعین کہ بنا پیوند کاری کے (زندگی کے دن)، علامات کی شدت (معیار زندگی) اور پیوند کاری اور بغیر پیوندکاری کے خدشات کا موازنہ کرنا۔

پی بی سی کی دوسری خصوصیات کے لئے کیا علاج میسر ہے؟

خارش:

اس کا بہترین ابتدائی مرحلے پر علاج کولیسٹائیرامائن (کوئیسٹران)۔ آدھے سے خارش کے مریضوں نے اس کے علاج پر تنائج دئیے ہیں جن کے اینٹروہیپٹک سرکولیشن میں رکاوٹ تھی، ممکنہ بائل ایسڈ میٹابولیزم اثراندازہورہا تھا، جو کہ ہوسکتا ہے کہ خارش کی وجہ سے ہو۔ کولیسٹائیرامائن کی خوراک کی وجہ سے پیچش ہوسکتی ہے۔ کولیسٹائیرامائن بائل ایسڈ اور دوسرے ادویات کو پابند کرتی ہے کہ اسے اُرسوڈی آکسی کولک ایسڈ یا دوسری باقاعدگی سے دی جانے والی ادویات کے ساتھ نہیں دیا جانا چاہیئیے۔ دوسرا علاج جس میں رفامپیسن، نالٹریکس ون اور دوسرے ایجنٹس۔ یاد رکھیں کے یہ ایجنٹس ہیپاٹوٹوکسک ہوسکتے ہیں اور ان کے برے اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں لہذٰا یہ ادویات کسی ماہر کی رہنمائی میں استعمال کریں۔ خارش میں خشک جلد ایک بڑا مسئلہ ہے تو جلد پر نمی پہنچانے والی اشیاء آزادی سے استعمال کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔

ہائپر کولیسٹرول آئمیہ:

کچھ مریضوں میں سیرم کولیسٹرول نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ دوسرے مریضو کی طرح اس کا علاج ہوسکتا ہے اور ہونا چاہئیے – خاص طور پر فائبریٹ اور اسٹیٹن سے لیکن یہ لازمی یاد رکھیں کہ کولیسٹرول لیول کا بڑھ جانا ممکن ہے کہ لیپوپروٹین ایکس کی وجہ سے ہو اور اس بارے میں دل کی پیچیدگی بڑھنے کے خدشےکے کچھ ثبوت ملے ہیں۔

اوسٹیوپوروسس:

جب سے پی بی سی عورتوں میں حیض بند ہونے کے بعد زیادہ پائی جانے لگی ہے اور کولیسٹیٹک جگر کی بیماری اس کے ساتھ مل کر اوسٹیوپوروسس بناتی ہے، بون منرل ڈینسٹی (ڈیکسا اسکین) پر توجہ دینی چاہئیے۔ اگر کسی کو اوسٹیوپوروسس ہے تو اس کا ویسے ہی علاج ہوگا جیسے دوسرے اوسٹیوپوروسس کے مریض کا ہوتا ہے۔

پی بی سی کے مریضوں کے لئے مشورہ:

عام طور پر، جگرکے کام اچھے طریقے سے محفوظ ہوتے ہیں جب تک کہ اس کے کلینکل کورس میں دیر نہ ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر ادویات عام انداز میں دی جاتیں ہیں۔ کیونکہ پی بی سی ایک کولیسٹک کی خرابی جس کی وجہ سے بغیر زبردست اشاروں کے جنسی ہارمون نہیں دیتے۔ پیراسیٹامول عام طور پر ہر مرحلے پر محفوظ ہوتی ہے لیکن ایک دن میں 3گرام سے زیادہ نہیں لینی چاہئیے۔ دوسری ادویات جگر کی دوسری بیماریوں میں استعمال کرنی چاہئیے۔